ایرانی وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، سیکیورٹی صورت حال پر گفتگو

عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے ہیں جب کہ مذاکرات کے لیے تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچ گیا
شائع 26 اپريل 2026 09:53pm

پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کاوشوں کا سلسلہ جاری ہے، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی فیلڈ کی مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں باہمی تعلقات اور خطے کی سیکیورٹی صورت حال پر گفتگو کی گئی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اتوار کے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے دارالحکومت مسقط سے دوبارہ پاکستان پہنچے، جہاں انہوں نے ایک بار پھر فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں باہمی امور اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال اور جاری سفارتی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں مختلف سفارتی سرگرمیاں اور مذاکرات جاری ہیں اور بعض حلقوں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے امکانات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک بار پھر اسلام آباد پہنچ گئے

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عمان کے دارالحکومت مسقط سے ایک بار پھر اسلام آباد پہنچے جب کہ مذاکرات کے لیے تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچ پہنچا۔ اس موقع پر عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ تہران بھی جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر کاوشیں کررہا ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی مسقط سے روس جانے کے بجائے واپس اسلام آباد آئے ہیں اور اب وہ روس کے دارالحکومت ماسکو کے لیے روانہ ہوں گے تاہم ماسکو کے دورے پر عباس عراقچی صدر پیوٹن سے بھی ملاقات کریں گے۔

ایرانی اور سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پاکستان آنے سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزاد فیصل بن فرحان السعود کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

گفتگو کے دوران عباس عراقچی نے خطے کی موجودہ صورت حال کے مختلف پہلوؤں سے اپنے سعودی ہم منصب کو آگاہ کیا جب کہ خاص طور پر جنگ بندی سے متعلق پیش رفت پر روشنی ڈالی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی ہم منصب کو ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے جاری سفارتی کوششوں اور اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری صورت حال اور سفارتی روابط کو جاری رکھنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا، تاہم گفتگو کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے مسقط میں سیاسی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں خطے کی مجموعی صورت حال اور باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس دورے سے قبل ایرانی وزیرخارجہ جمعے کی رات اسلام آباد پہنچے تھے، ایرانی وفد نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت سے بھی ملاقاتیں کی تھیں، جن میں خطے کی سیکیورٹی اور بدلتی ہوئی صورت حال پر تفصیلی گفتگو ہوئی تھی۔

دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا تھا، جس میں تقریباً پچاس منٹ تک دوطرفہ امور اور علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اہم بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ نیوکلیئر ہتھیار نہ بنانے پر بات چیت جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے معاہدے کے لیے ایک ابتدائی دستاویز پیش کی، تاہم جب دورہ منسوخ کیا گیا تو صرف دس منٹ کے اندر ایک نیا اور بہتر مسودہ سامنے آ گیا۔

امریکی صدر کے مطابق یہ کوئی پیچیدہ مذاکرات نہیں بلکہ ایک سادہ معاملہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے اندر قیادت کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں، تاہم امریکا جس بھی قیادت کے ساتھ معاملات طے ہوں گے، اسی سے بات چیت کرے گا۔