اوپن اے آئی میرا آئیڈیا تھا، جسے بڑے لوگوں نے چرایا: ایلون مسک کا دعویٰ
ایلون مسک نے اوکلینڈ، کیلیفورنیا میں ایک اہم مقدمے کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی دراصل ان کا آئیڈیا تھی، جسے بعد میں اس کے منتظمین نے اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایلون مسک نے اوپن اے آئی کے خلاف عدالتی کارروائی کے دوران اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے، جس میں انہوں نے کمپنی کی موجودہ انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ منگل کے روز شروع ہونے والے اس اہم مقدمے میں ایلون مسک نے موقف اختیار کیا کہ اوپن اے آئی دراصل ان کا اپنا آئیڈیا تھا، لیکن بعد میں اس کے عہدیداروں نے اسے چرالیا۔
ایلون مسک نے کہا کہ اوپن اے آئی کو انہوں نے اس مقصد کے لیے شروع کیا تھا کہ یہ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہو جو انسانیت کے فائدے کے لیے کام کرے۔ ان کے مطابق کمپنی کو بعد میں ایک منافع کمانے والے ادارے میں تبدیل کر دیا گیا، جو ان کے بقول اصل وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔
مسک نے عدالت میں کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی خیراتی ادارے کو اس طرح تبدیل کرنے کی اجازت دی گئی تو امریکا میں فلاحی کاموں کی بنیاد ہی کمزور ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اوپن اے آئی کا مقصد کسی فرد کو فائدہ پہنچانا نہیں تھا بلکہ پوری انسانیت کی بھلائی تھا۔
اپنی گواہی میں ایلون مسک نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے نہ صرف اس منصوبے کا خیال پیش کیا بلکہ اس کا نام رکھا، اہم افراد کو ٹیم میں شامل کیا اور ابتدائی مالی مدد بھی فراہم کی۔ ایلون مسک کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر اسے منافع کمانے والا منصوبہ نہیں بنایا تھا۔
دوسری جانب اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ سَم آلٹمین کے وکلاء نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ شروع ہی سے ایلون مسک کے عزائم مختلف تھے۔ ان کے مطابق مسک نے کمپنی کی ابتدائی ترقی میں سرمایہ کاری کی اور بعد میں اسے ایک کاروباری ادارہ بنانے کی کوشش کی تاکہ وہ خود اس کے سربراہ بن سکیں۔ وکلاء نے یہ بھی کہا کہ مسک نے اس مقدمے کا سہارا اس وقت لیا جب انہیں اپنی مرضی کا نتیجہ نہیں ملا۔
اوپن اے آئی کے وکلاء کے مطابق کمپنی کو 2019 میں ایک منافع بخش ڈھانچے کی طرف لے جانا اس لیے ضروری تھا تاکہ جدید کمپیوٹنگ وسائل حاصل کیے جا سکیں اور ماہر سائنسدانوں کو برقرار رکھا جا سکے، خاص طور پر گوگل جیسے بڑے اداروں کے ساتھ مقابلے کے لیے۔
مقدمے میں ایلون مسک نے اوپن اے آئی اور اس کے شراکت دار مائیکروسافٹ سے 150 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ کمپنی کو دوبارہ غیر منافع بخش ادارہ بنایا جائے اور اس کی موجودہ قیادت کو ہٹا دیا جائے۔
دوسری طرف مائیکروسافٹ کے وکیل نے کہا کہ کمپنی نے ہر مرحلے پر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور اس میں کوئی غلطی نہیں کی گئی۔
عدالت میں جج نے ایلون مسک کو سوشل میڈیا پر اپنے بیانات کے حوالے سے بھی تنبیہہ کی، خاص طور پر ان پوسٹس پر جن میں انہوں نے اوپن اے آئی کے سربراہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ مسک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ اپنی سوشل میڈیا سرگرمی کم کریں گے۔
یہ مقدمہ نہ صرف اوپن اے آئی کی قیادت اور اس کی ساخت پر سوالات اٹھا رہا ہے بلکہ مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت اور اس کے مستقبل پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
















