جب بانڈ مارکیٹیں اعتبار کھو بیٹھتی ہیں
عالمی بانڈ مارکیٹیں اب ایک ایسا دھماکہ خیز سوال اٹھا رہی ہیں جسے شیئر بازار کے سرمایہ کار فی الحال نظرانداز کرنا ہی بہتر سمجھ رہے ہیں، تب کیا ہوگا جب مہنگائی کا جن، ابلتا ہوا مالیاتی دباؤ اور گہری سیاسی غیر یقینی صورتحال ایک ایسے ہولناک وقت پر یکجا ہو جائیں جب دنیا کے مرکزی بینک مارکیٹوں کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے نہ تو آمادہ نظر آئیں اور نہ ہی ان میں اتنی سکت باقی رہے؟
امریکی 30 سالہ ٹریژری بانڈز پر منافع 5.1 فیصد سے اوپر چلا گیا ہے، جو 2007 کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔ دوسری طرف 10 سالہ بانڈز کا منافع بھی 4.7 فیصد کے آس پاس موجود ’خطرناک زون‘ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دنیا کی بڑی بانڈ مارکیٹوں میں قرض لینے کی لاگت (سود) ایک ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب حکومتیں پہلے سے کہیں زیادہ بڑی مقدار میں قرضے (بانڈز) جاری کر رہی ہیں اور سرمایہ کار مہنگائی اور مالیاتی خطرات کے بدلے زیادہ معاوضے (منافع) کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اس صورتحال کی فوری وجہ بالکل واضح ہے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے توانائی کی قیمتوں کو اونچی سطح پر برقرار رکھا ہے، جس سے مہنگائی کی تشویش دوبارہ زندہ ہو گئی ہے اور مارکیٹیں عالمی شرحِ سود کے مستقبل پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں لیکن کیا کہانی صرف اتنی ہی ہے یا ٹرمپ کی اس جنگ نے ایک ایسے مالیاتی نظام میں ایک اور دراڑ پیدا کر دی ہے جو پہلے ہی بجٹ خساروں، قرضوں کی ادائیگی کی لاگت اور مرکزی بینکوں کی روایتی لائف لائن کے بتدریج ختم ہونے کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار تھا؟
تقریباً دو دہائیوں سے بانڈ سرمایہ کاروں نے ایک پختہ مفروضے کے تحت کام کیا، اگر مارکیٹ بری طرح ڈوبنے لگی تو مرکزی بینک بچانے کے لیے میدان میں آ جائیں گے۔ مالیاتی بحران کے بعد اور پھر کووڈ کے دوران ’کوانٹیٹیٹو ایزنگ‘ (یعنی مرکزی بینکوں کی طرف سے مارکیٹ سے بانڈز خرید کر پیسہ ڈالنا) نے سرمایہ کاروں کو اس یقین کا خوگر بنا دیا تھا کہ طویل المیعاد سرکاری قرضوں کے ساتھ ایک غیبی پیراشوٹ (حفاظتی چھتری) ہمیشہ موجود رہے گا لیکن کیا ہوگا اگر وہ پیراشوٹ اب غائب ہو جائے؟
یہی وجہ ہے کہ اس نازک وقت میں کیون وارش کی فیڈرل ریزرو میں آمد بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ وہ طویل عرصے سے مرکزی بینک کی طرف سے بانڈز خریدنے کی پالیسی کے نقاد رہے ہیں اور فیڈرل ریزرو کی بیلنس شیٹ کو سیکیڑنے (کم کرنے) کے حق میں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ عملی حدود ان کی رفتار کو دھیما کر دیں یا خود مارکیٹیں انہیں محتاط ہونے پر مجبور کر دیں لیکن اگر سرمایہ کاروں کو یہ یقین ہو جائے کہ اگلا کوئی بحران آنے پر فیڈرل ریزرو طویل المیعاد بانڈز خریدنے کے لیے تیار نہیں ہوگا تو کیا یہ بات فوری طور پر زیادہ رسک پریمیم (منافع کے مطالبے) کو جواز فراہم نہیں کرتی؟
یہی وہ مقام ہے جہاں طویل المیعاد بانڈز کا یہ رخ خطرناک ہو جاتا ہے۔ جب 30 سالہ ٹریژری بانڈ کا منافع 5 فیصد سے اوپر جاتا ہے تو یہ صرف بانڈ مارکیٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے مالیاتی حالات کو سخت کر دیتا ہے، جس کا براہِ راست اثر ہوم لون کی شرحوں، کارپوریٹ قرضوں کی لاگت اور شیئر بازار کی ویلیوشنز پر پڑتا ہے۔ اگر 10 سالہ بانڈز کا منافع 4.75 فیصد اور 30 سالہ بانڈز کا منافع 5.5 فیصد کی طرف بڑھتا رہا تو شیئر بازار کے سرمایہ کار کب تک یہ فرض کر سکیں گے کہ بانڈز کی اس مندی کے اثرات کو روکا جا سکتا ہے؟
فی الحال کمپنیوں کے اچھے منافع اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی لہر کی بدولت اسٹاک مارکیٹ نے مضبوطی دکھائی ہے لیکن کیا دنیا میں سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ترین سمجھے جانے والے امریکی بانڈز کی شرحِ سود مسلسل بڑھتی رہی تو تیز رفتار ترقی کرنے والے شیئرز پرسکون رہ پائیں گے؟ اگر سرمایہ کار مہنگائی، مالیاتی خطرات اور غیر یقینی صورتحال کے بدلے زیادہ منافع مانگنے لگیں تو کیا کارپوریٹ ادارے اتنی ہی آسانی سے اپنے پرانے قرضوں کی ری فنانسنگ (نئے قرض میں تبدیلی) کر سکیں گے؟ اور کیا حکومتیں یہ دکھاوا جاری رکھ سکیں گی کہ قرضوں پر بڑھتا ہوا سود محض بجٹ کی ایک تکنیکی سی شق ہے؟
اس کا جواب سیاسی بحثوں میں آنے سے پہلے خود بانڈ مارکیٹ میں واضح ہو رہا ہے۔ سرمایہ کار اب صرف مہنگائی کے اعداد و شمار یا مرکزی بینک کے سربراہان کی تقریروں پر ردعمل نہیں دے رہے۔ وہ اب یہ جانچ رہے ہیں کہ بڑھتے ہوئے بجٹ خساروں، بھاری دفاعی اخراجات، بوڑھی ہوتی آبادی اور توانائی کے نئے بحرانوں کی دنیا میں کیا حکومتیں اب بھی سستے قرضوں کی حقدار ہیں یا نہیں؟
برطانیہ اس سلسلے میں سب سے واضح مثال اور وارننگ پیش کرتا ہے۔ وہاں طویل المیعاد سرکاری بانڈز (گلٹز) پر منافع حال ہی میں ان سطحوں کو چھو گیا ہے جو 1998 کے بعد نہیں دیکھی گئیں، کیونکہ وہاں سیاسی غیر یقینی صورتحال مالیاتی تشویش سے ٹکرا رہی ہے۔ لز ٹراس کے دور کا واقعہ پہلے ہی دکھا چکا ہے کہ بانڈ مارکیٹ کس طرح تیزی سے اس حکومت کو لگام ڈال دیتی ہے جو ان کے صبر کا غلط اندازہ لگاتی ہے۔ اب سرمایہ کار ایک بار پھر سیاسی جانشینی، اخراجات کے وعدوں اور نئے بانڈز کے اجرا کا وزن کر رہے ہیں۔ انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا اب بانڈ مارکیٹ کی منظوری خاموشی سے اتنی ہی اہم ہوتی جا رہی ہے جتنا کہ خود عوامی ووٹ؟
جاپان کو اسی مسئلے کا اپنا ایک الگ رخ درپیش ہے۔ بھاری قرضے، کمزور ین، توانائی کی درآمد کا دباؤ اور مالیاتی پھیلاؤ پر اٹھنے والے سوالات نے وہاں کی بانڈ مارکیٹ کو ہر پالیسی سگنل پر انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ فرانس بھی سیاسی عدم استحکام اور خسارے کے خدشات کے باعث دباؤ میں ہے۔ امریکہ میں ڈالر کی عالمی ریزرو کرنسی کی حیثیت واشنگٹن کو دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ گنجائش (رعایت) دیتی ہے لیکن یہ استحقاق بھی بڑھتے ہوئے سودی اخراجات کو غائب نہیں کر سکتا۔
اب بانڈز خریدنے والوں کی بنیاد بھی بدل چکی ہے۔ یہ پرانے مفروضے اب اتنے قابلِ بھروسا نہیں رہے کہ غیر ملکی مرکزی بینکوں کے ریزرو مینیجرز امریکی ٹریژری بانڈز کی سپلائی کو جذب کرتے رہیں گے۔ اب مارکیٹ میں آخری لمحات میں خریدنے والے خریدار زیادہ تر وہ ہیج فنڈز، لیوریجڈ سرمایہ کار اور فنانشل سینٹرز کے ذریعے آنے والا سرمایہ ہیں جو قیمتوں کے معاملے میں انتہائی حساس ہیں۔ اگر سود کی بلند شرحیں اب خود بخود مستحکم مانگ پیدا نہیں کر پا رہیں تو پھر اس گراوٹ کی آخری حد (فلور ) کہاں ہے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ مالیاتی خطرہ اب اپنی جگہ بدل چکا ہے۔ 2008 کے بعد کی سخت ریگولیشنز نے بینکوں کو تو محفوظ بنا دیا، لیکن خطرہ مول لینے کا رجحان ختم نہیں ہوا۔ یہ بینکوں سے نکل کر پرائیویٹ کریڈٹ، ہیج فنڈز اور سرکاری بانڈز کے گرد گھومنے والے لیوریجڈ اسٹرکچر میں منتقل ہو گیا۔ بانڈز کے منافع میں اچانک ہونے والا تیز اضافہ اب مارکیٹوں میں ایسے طریقوں سے سرایت کر سکتا ہے جن کی پیشگوئی کرنا مشکل ہے۔ کیا ہوگا اگر بانڈ مارکیٹ کی اگلی مندی بیک وقت شیئر بازار، کریڈٹ مارکیٹ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے فنڈنگ کے حالات کو ایک ساتھ نشانہ بنا دے؟
پاکستان کے لیے یہ وال اسٹریٹ کی کوئی فرضی یا نظریاتی بحث نہیں ہے۔ امریکہ میں بانڈز پر منافع بڑھنے سے عالمی سطح پر نقد بہاؤ سکڑ جاتی ہے، ڈالر کو مضبوطی ملتی اور بیرونی فنڈنگ حاصل کرنے کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ تیل کے بحران امپورٹ بل کو تباہ کر دیتے ہیں اور کرنسی پر آنے والا دباؤ ملک کے اندر مہنگائی کو ہوا دیتا ہے۔ جو ممالک پہلے ہی نازک بیرونی اکاؤنٹس کو سنبھال رہے ہوں، انہیں بہت جلد اندازہ ہو جاتا ہے کہ بانڈ مارکیٹ کے شکاریوں کو مقامی سطح پر تباہی مچانے کے لیے کسی مقامی پتے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومتوں نے سالہا سال یہ سوچنے میں گزار دیے کہ کم شرحِ سود نے معیشت کے اصول ہی بدل دیے ہیں۔ یہ فرض کر لیا گیا کہ قرضے جتنے چاہیں بڑھ سکتے ہیں، مالیاتی ذخائر جتنے چاہیں سکڑ سکتے ہیں اور مرکزی بینک باقی سب کچھ سنبھال لیں گے۔ اب بانڈ مارکیٹیں یہ سوال پوچھ رہی ہیں کہ کیا یہ پورا نظام ایک ایسی دنیا پر منحصر تھا جو اب وجود ہی نہیں رکھتی؟
ہو سکتا ہے کہ یہ صرف ایک عارضی خوف ہو۔ ہو سکتا ہے مہنگائی ٹھنڈی ہو جائے، تیل کی قیمتیں مستحکم ہو جائیں اور کیون وارش اپنے ماضی کے ریکارڈ کے برعکس زیادہ حقیقت پسند ثابت ہوں لیکن اگر حفاظتی نیٹ ورک اب پتلا ہو چکا ہے، بجٹ خسارے بڑے ہیں اور بحران بار بار آ رہے ہیں تو کیا مارکیٹوں کی قیمتیں اب بھی پرانے دور کے حساب سے ہونی چاہئیں؟
یہ وہ ناگوار اور تلخ سوال ہے جسے طویل المیعاد بانڈز اب سامنے لانے پر مجبور کر رہے ہیں اور جب بانڈ مارکیٹیں ایسے سوالات اٹھانا شروع کر دیں جن کے جوابات حکومتیں دینا نہیں چاہتیں تو پھر یہ گفتگو زیادہ دیر تک صرف بانڈ مارکیٹوں تک محدود نہیں رہا کرتی۔
نوٹ: یہ تحریر 21 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

















