امریکا نے امن معاہدے کی مکمل تفصیلات جاری کردیں
امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کی اصل اور مکمل تحریر سامنے آ گئی ہے، جس کا اعلان امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے صحافیوں کو دی جانے والی ایک بریفنگ کے دوران کیا۔
اس پورے معاہدے کا اگر خلاصہ دیکھا جائے تو اس میں بنیادی بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں نے جنگ ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ ایران اب اپنے سمندری راستے یعنی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا جبکہ امریکا ایران پر قائم اپنی سمندری ناکہ بندی کو ختم کر دے گا۔
اس کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی پروگرام پر بات چیت کے لیے ساٹھ دنوں کا وقت طے کیا گیا ہے اور ان ساٹھ دنوں کے دوران ایران کو اپنا تیل بیچنے کی عارضی اجازت بھی مل گئی ہے۔ اگر ایران ایٹمی پروگرام کا فائنل معاہدہ کر لیتا ہے تو اسے اربوں ڈالر کی بڑی معاشی امداد بھی دی جائے گی۔
چونکہ یہ معاہدہ ایک سرکاری افسر نے صحافیوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور اس کی شائع شدہ سرکاری کاپی ابھی جاری نہیں ہوئی، اس لیے اس میں معمولی فرق ہو سکتا ہے، لیکن اس کے چودہ نکات کی اصل تفصیلات درج ذیل ہیں۔
پہلے نقطے کے مطابق، ریاست ہائے متحدہ امریکا اور ایران کی اسلامی جمہوریہ نے اس جنگ میں شامل اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس دستاویز پر دستخط کر کے یہ اعلان کیا ہے کہ تمام محاذوں بشمول لبنان میں فوجی کارروائیاں فوری اور ہمیشہ کے لیے ختم کر دی جائیں گی۔
دونوں ملکوں نے عہد کیا ہے کہ وہ اب سے ایک دوسرے کے خلاف کوئی جنگ یا فوجی کارروائی شروع نہیں کریں گے اور نہ ہی ایک دوسرے کو دھمکی دیں گے یا طاقت کا استعمال کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی لبنان کی آزادی اور اس کی حدود کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا اور پکے معاہدے میں بھی اس جنگ بندی کی تصدیق کی جائے گی۔
دوسرے نقطے میں امریکا اور ایران نے یہ ذمہ داری اٹھائی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی آزادی، حکومت اور ملکی حدود کا پورا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے گھر کے یعنی اندرونی معاملات میں کسی قسم کی دخل اندازی نہیں کریں گے۔
تیسرے نقطے کے تحت دونوں ملکوں نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ساٹھ دنوں کے اندر حتمی اور پکا معاہدہ تیار کرنے کے لیے بات چیت مکمل کریں گے، اور اگر دونوں ملک راضی ہوں تو اس وقت کو آگے بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔
چوتھے نقطے میں یہ طے پایا ہے کہ جیسے ہی اس خط پر دستخط ہوں گے، امریکا فوری طور پر ایران کے خلاف لگی اپنی سمندری ناکہ بندی اور ہر قسم کی رکاوٹوں کو ہٹانے کا کام شروع کر دے گا اور تیس دنوں کے اندر اس ناکہ بندی کو پوری طرح ختم کر دیا جائے گا۔
اس دوران سمندر میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو اسی پرانی تعداد پر لایا جائے گا جو جنگ شروع ہونے سے پہلے ہوا کرتی تھی۔
امریکا نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ پکے معاہدے کے تیس دنوں کے اندر وہ اپنی تمام فوجیں ایران کے آس پاس کے علاقوں سے واپس بلا لے گا۔
پانچویں نقطے کے مطابق دستخط ہوتے ہی ایران اپنی طرف سے پوری کوشش کرے گا کہ خلیجِ فارس سے لے کر عمان کے سمندر تک تجارتی جہازوں کو ساٹھ دنوں کے لیے بغیر کسی فیس یا ٹیکس کے بالکل مفت اور محفوظ راستہ فراہم کیا جائے۔
تجارتی جہازوں کا آنا جانا فوری طور پر شروع کر دیا جائے گا اور سمندر سے فوجی رکاوٹیں اور بارودی سرنگیں ہٹانے کے بعد تیس دنوں کے اندر اس نظام کو پوری طرح بحال کر دیا جائے گا۔
ایران اس سمندری راستے یعنی آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور سہولیات کے لیے عمان اور خلیج کے دیگر ساحلی ملکوں کے ساتھ مل کر بین الاقوامی قوانین کے تحت بات چیت کرے گا۔
چھٹے نقطے کے تحت امریکا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس علاقے کے دوسرے ساتھی ملکوں کے ساتھ مل کر ایران کی دوبارہ تعمیر اور معاشی ترقی کے لیے ایک پکا پلان بنائے گا جس کے لیے کم از کم تین سو ارب ڈالر یعنی کھربوں روپے کا انتظام یقینی بنایا جائے گا۔
اس پلان کو لاگو کرنے کے طریقہ کار کو ساٹھ دنوں کے اندر فائنل معاہدے کا حصہ بنایا جائے گا اور اس کے لیے تمام ضروری مالیاتی اجازت نامے اور لائسنس امریکا خود جاری کرے گا۔
ساتویں نقطے میں امریکا نے یہ ذمہ داری لی ہے کہ وہ ایران پر لگی ہر قسم کی پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی پابندیاں اور امریکا کی اپنی طرف سے لگی تمام چھوٹی بڑی پابندیاں شامل ہیں، اور ان پابندیوں کو ہٹانے کا ایک پورا ٹائم ٹیبل فائنل معاہدے میں طے کیا جائے گا۔
دونوں ملکوں نے ماننا ہے کہ پابندیاں ہٹانے کا یہ معاملہ بہت اہم ہے اور وہ اس پر فوری بات چیت کریں گے۔
آٹھویں نقطے میں ایران نے ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنے وعدہ کیا ہے کہ وہ کبھی بھی ایٹمی ہتھیار یعنی ایٹم بم نہیں بنائے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا۔ دونوں ملک اس بات پر راضی ہوئے ہیں کہ ایران کے پاس پہلے سے جمع شدہ ایٹمی مواد یعنی یورینیم کو ختم کرنے کے لیے ایک ایسا طریقہ بنایا جائے گا جس کے تحت بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی نگرانی میں اس مواد کی طاقت کو وہیں موقع پر ہی کم کر کے بیکار کر دیا جائے گا۔
دونوں ملک ایران کی جائز ایٹمی ضرورتوں پر فائنل معاہدے میں مزید بات چیت کرنے پر بھی راضی ہو گئے ہیں۔
نویں نقطے کے مطابق جب تک پکا معاہدہ نہیں ہو جاتا، دونوں ملک موجودہ حالت کو برقرار رکھیں گے، یعنی ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو جہاں ہے وہیں روکے رکھے گا اور امریکا کوئی نئی پابندی نہیں لگائے گا اور نہ ہی خطے میں نئے فوجی بھیجے گا۔
دسویں نقطے کے تحت امریکا نے ذمہ داری اٹھائی ہے کہ دستخط ہوتے ہی امریکی محکمہ خزانہ ایران کو اپنا کچا تیل، پٹرولیم کی چیزیں بیچنے اور بینکنگ، انشورنس اور جہاز رانی کی سہولیات استعمال کرنے کے لیے عارضی اجازت نامے جاری کرے گا جو پابندیاں پوری طرح ختم ہونے تک چلیں گے۔
گیارہویں نقطے میں امریکا نے وعدہ کیا ہے کہ معاہدے پر عمل شروع ہوتے ہی ایران کے روکے گئے یا منجمد کیے گئے تمام پیسے اور اثاثے پوری طرح بحال کر دیے جائیں گے۔ یہ پیسے ایران کا مرکزی بینک اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی حتمی ضرورت کے لیے پوری آزادی سے استعمال کر سکے گا اور امریکا اس کے لیے تمام ضروری قانونی کاغذات جاری کرے گا۔
بارہویں نقطے کے تحت دونوں ملک اس بات پر راضی ہوئے ہیں کہ اس پورے معاہدے پر نظر رکھنے کے لیے ایک نگرانی کرنے والی کمیٹی یعنی انتظامی نظام بنایا جائے گا جو یہ دیکھے گا کہ سب لوگ اپنے وعدے پورے کر رہے ہیں یا نہیں۔
تیرہویں نقطے میں یہ طے کیا گیا ہے کہ معاہدے پر دستخط ہونے اور جنگ بندی، سمندری ناکہ بندی ہٹانے، تیل کی فروخت اور پیسوں کی واپسی جیسے بنیادی نکات پر عمل شروع ہونے کے بعد، دونوں ملک باقی ماندہ امور پر فائنل معاہدے کے لیے بات چیت کا آغاز کریں گے۔
سب سے آخر میں چودھویں نقطے میں یہ صاف لکھ دیا گیا ہے کہ اس فائنل امن معاہدے کو پکا اور قانونی طور پر لازمی کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک بڑی اور اہم قرار داد بھی پاس کروائی جائے گی تاکہ کوئی بھی ملک اپنی بات سے پیچھے نہ ہٹ سکے۔













