قطر میں تمام بحری سرگرمیاں بحال، ایران کے ساتھ سمندری تجارت بھی دوبارہ شروع

ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی راستے کی بحالی کی تصدیق کی ہے۔
شائع 05 جولائ 2026 05:00pm

قطر نے تمام بحری سرگرمیاں فوری طور پر بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایران کے ساتھ اپنی بندرگاہوں کے درمیان بحری تجارت بھی دوبارہ شروع کر دی ہے۔ قطری وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق بحری سرگرمیاں فوری طور پر بحال کر دی گئی ہیں جب کہ ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی راستے کی بحالی کی تصدیق کی ہے۔

قطر کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ملک میں تمام بحری سرگرمیاں فوری طور پر دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔

وزارت نے تمام بحری جہازوں کے آپریٹرز اور صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ نافذالعمل بحری قوانین اور متعلقہ ہدایات پر مکمل عمل کریں تاکہ تمام بحری سفر کے دوران اعلیٰ ترین سطح کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ اعلان 29 جون کو جاری کیے گئے اس مشاورتی نوٹس کی واپسی ہے، جس میں آئندہ اطلاع تک کشتی رانی اور ماہی گیری کی کشتیوں کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی تاہم تجارتی جہازرانی کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق قطر کی الرویس بندرگاہ کو ایرانی سامان کی آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے، جس کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان بحری تجارت بھی بحال ہو گئی ہے۔ الرویس بندرگاہ اور ایران کی دیّر بندرگاہ کے درمیان بحری راستہ خلیج فارس میں دونوں ممالک کے درمیان مختصر ترین تجارتی شپنگ روٹ تصور کیا جاتا ہے۔

قطر، ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہے اور خلیجی تنازع کے خاتمے کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارتی رابطوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔

قطری حکام نے 29 جون کو عائد کی گئی عارضی پابندی کی کوئی باضابطہ وجہ بیان نہیں کی تھی تاہم یہ اقدام اس اعلان کے ایک روز بعد سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کے دوران شیل کے ٹکڑوں سے زخمی ہونے والا ایک قطری شہری، جس کی کشتی بھی لاپتا ہو گئی تھی، جان کی بازی ہار گیا تھا۔

واضح رہے کہ جنوبی خلیج میں بحری نقل و حمل سے متعلق کشیدگی کے باعث قطر نے ایک ہفتہ قبل تمام جہازوں اور ماہی گیری کی کشتیوں کو عارضی طور پر سمندری سفر معطل کرنے کی ہدایت جاری کی تھی تاہم اب حکومت نے یہ پابندی ختم کرتے ہوئے تمام بحری سرگرمیوں اور ایران کے ساتھ بحری تجارتی رابطوں کی بحالی کا اعلان کر دیا ہے۔