حسینہ واجد کا خطاب سننے پر سابق بنگلا دیشی کپتان شکیب الحسن کے گھر پر بم حملہ
بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شکیب الحسن کے آبائی ضلع ماگورا میں واقع گھر پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا تاہم واقعے میں کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے گھر پر اینٹیں اور پتھر پھینکے، کھڑکیوں کے شیشے توڑے اور بعد ازاں مکان کو آگ لگانے کی کوشش کی۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ پانچ اگست کو مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 8 بج کر 45 منٹ پر پیش آیا۔ علاقے کے رہائشیوں نے حملے کے دوران زور دار دھماکوں جیسی آوازیں سننے کی اطلاع دی، جنہیں آتش بازی یا پٹاخوں کی آواز قرار دیا گیا۔
بعض مقامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ حملہ آوروں نے گھر پر پیٹرول بم بھی پھینکے، تاہم پولیس نے اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی۔
سوشل میڈیا پر عوامی لیگ کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں شکیب الحسن کی رہائش گاہ کے باہر پٹاخوں جیسی آوازیں بھی سنی جا گئیں۔ 39 سالہ شکیب الحسن ماضی میں عوامی لیگ کے ٹکٹ پر ماگورا-1 سے رکن پارلیمنٹ بھی منتخب ہوئے تھے۔
ماگورا صدر پولیس اسٹیشن کے افسر انچارج عبداللہ المامون نے مقامی اخبار دی ڈیلی اسٹار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چند شرپسندوں نے گھر پر اینٹوں کے ٹکڑے پھینکے، کھڑکیوں کو نقصان پہنچایا اور مکان کو آگ لگانے کی کوشش بھی کی۔
واقعے کے بعد پولیس کی اضافی نفری شکیب الحسن کے گھر کے باہر تعینات کر دی گئی، جبکہ حملہ آوروں کی شناخت اور حملے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب چند گھنٹے قبل شکیب الحسن نے معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی دہلی سے ورچوئل میڈیا گفتگو میں شرکت کی تھی۔ یہ پروگرام فارن کورسپانڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کے زیر اہتمام منعقد ہوا تھا۔
اپنے خطاب میں شیخ حسینہ نے جولائی اور اگست 2024 کے دوران ہونے والے سیاسی بحران پر اپنی حکومت کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک اچانک شروع ہونے والا احتجاج نہیں بلکہ حکومت کی تبدیلی کے لیے نہایت منصوبہ بندی کے ساتھ چلائی گئی کارروائی تھی۔
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ میڈیا پروگرام سے قبل بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)، جماعت اسلامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے رہنماؤں نے اس تقریب پر تنقید کی تھی اور بعض میڈیا اداروں کو شیخ حسینہ کا خطاب نشر نہ کرنے کی تنبیہ بھی کی تھی۔
دوسری جانب عوامی لیگ کے بعض رہنماؤں اور حامیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ شکیب الحسن کے گھر پر حملہ ان کی اس تقریب میں شرکت سے متعلق ہو سکتا ہے، تاہم بنگلہ دیشی حکام نے تاحال حملے اور میڈیا پروگرام کے درمیان کسی تعلق کی تصدیق نہیں کی، جبکہ پولیس بھی ذمہ دار افراد کی شناخت نہیں کر سکی۔
شکیب الحسن کو بنگلہ دیش کی تاریخ کے بہترین آل راؤنڈرز میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم عوامی لیگ سے ان کی سیاسی وابستگی انہیں ایک متنازع شخصیت بھی بناتی رہی ہے۔ وہ 2024 کے عام انتخابات میں عوامی لیگ کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے، جن انتخابات کو اپوزیشن جماعتوں نے غیر مسابقتی قرار دیا تھا۔
اگست 2024 میں سیاسی تبدیلی کے بعد عوامی لیگ پر بنگلہ دیش میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ بدھ کے روز اپنے خطاب میں شیخ حسینہ نے اپنی جماعت پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ قانونی چیلنجز کے باوجود وطن واپس آنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
















