آج نیوز کے پروگرام "اسپاٹ لائٹ" میں گفتگو کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے پاس الیکٹڈ حکومت ہے، ایم کیو ایم نے اپنے دو وزیر حکومت کو دیئے ہیں۔
اجلاس میں تمام جماعتوں نے متفقہ فیصلہ کیا کہ قبل از وقت انتخابات نہیں ہوں گے، موجودہ اتحادی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی جس کے تحت آئندہ الیکشن اگست 2023 میں ہوں گے۔
عمران خان نے کہا کہ ہمیشہ آپ کی شکلوں کےساتھ لوٹا لکھا جائے گا، آپ کے بیٹے کی بیوی کہے گی تمہارا باپ لوٹا تھا، ایسے پیسے پر لعنت ہے،، نہ ہم کسی لوٹے کو خریدتے ہیں اور نہ معاف کرتے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے مطابق لوٹے ووٹ نہیں ڈال سکتے، شہباز شریف کے 169 ارکان ہیں جب کہ 25 اراکین کا ووٹ حمزہ شہباز کی حمایت سے ختم ہوجاتا ہے۔
پنجاب اسمبلی کے 25 منحرفین کے خلاف فیصلہ ڈی لسٹ کردیا گیا ہے، نا اہلی ریفرنسز پر فیصلہ کل نہیں سنایا جائے گا بلکہ اس سے فیصلے سے قبل فریقین کو نوٹسز جاری کیےجائیں گے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کو الگ سے نہیں پڑھا جا سکتا، اس کی اصل روح ہے کہ سیاسی جماعت کے کسی رکن کو انحراف نہ کرنا پڑے، آرٹیکل 63 اے کا مقصد جماعتوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔
وزیرِاعظم شہبازشریف سے سائینو وک کے وفد کی ملاقات ہوئی، وزیرِاعظم کو کورونا ویکسی نیشن مہم کے دوران سائینو ویک کی طرف سے پاکستان کو فراہم کی گئی ویکسین کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
نوازشریف کو پاکستان آنے سےکس نے روکا ہے، نوازشریف پاکستان آئیں اور الیکشن کروائیں، جس جہازمیں نوازشریف بیٹھیں گے مسافراترجائیں گے. سربراہ عوامی مسلم لیگ
6 ماہ کی طویل بندش کے بعد شاہراہ کاغان کو بابو سر ٹاپ کے مقام سے ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بحال کیا گیا، موسم سرما میں برفباری کے باعث شاہراہ کاغان 6 ماہ کیلئے بند ہوگئی تھی۔
وزیراعظم حکومتی اتحادی رہنماؤں کے ساتھ سیاسی لائحہ عمل پرتبادلہ خیال کریں گے، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ، معاشی پالیسی ، آئندہ انتخابات ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سمیت تمام معاملات پر گفتگو ہوگی۔