'ایک حکایت، ایک سبق 'نابینا اور ہیرا

شائع 17 اگست 2017 05:44am

king

کڑکتی سردیوں کے دن تھے، ایک بادشاہ کا دربار کھلے میدان میں لگا ہوا تھا۔ سردی کی وجہ سے دربار میں موجود تمام خواص و عوام  صبح  کی دھوپ میں بیٹھے ہوئے تھے۔

بادشاہ کے تخت کے سامنے رکھی ہوئی میز پر کچھ قیمتی اشیاء پڑی ہوئی تھیں۔ دربار میں بادشاہ کے وزیر، مشیر، امراء اور خاندان کے دیگر لوگ بھی حاضر تھے۔

کہ اچانک دربان نے آکر عرض کیا کہ حضور ایک اجنبی آپ سے ملنے کی خواہش رکھتا ہے۔ اجنبی کو ملنے کی اجازت دے دی گئی۔

اجنبی نے بادشاہ کے سامنے آداب عرض کیا اور اپنی بات شروع کی۔ اس نے کہا " بادشاہ سلامت! میرے پاس دو چیزیں ہیں۔ میں ہر ملک کے بادشاہ کے گیا اور وہ چیزیں ان کے سامنے رکھیں اور کہا کہ ان میں فرق بتائیں۔ لیکن اس شرط پر کہ اگر صحیح فرق بتایا تو ہیرا آپ کا  اور ہار گئے تو مجھے انعام دیا جائے گا۔

آج تک کوئی ان میں فرق نہیں بتا پایا، میں ہمیشہ کامیاب لوٹا اور انعام و اکرام سے نوازا گیا۔ اب میں آپ کے سامنے اسی مقصد سے حاضر ہوا ہوں، اجازت دیں تو پیش کروں۔"

بادشاہ نے اجازت دیتے ہوئے کہا " دکھاؤ اجنبی کہ تم کیا لائے ہو؟"

اس اجنبی نے وہ دونوں چیزیں میز پر رکھیں، دونوں چیزیں جسامت وزن اور حجم میں ایک جیسی تھیں۔ ان میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا تھا۔ گویا دونوں ایک دوسرے کی نقل تھیں۔

بادشاہ نے پوچھا کیا یہ دونوں ایک جیسی ہیں؟

اجنبی نے کہا " حضور! دکھتی تو ایک جیسی ہی ہیں، لیکن ان میں فرق ہے۔ ان میں سے ایک ہیرا ہے اور ایک شیشہ۔ بظاہر ایک جیسے دکھنے والی ان دو چیزوں کے درمیان آج تک کوئی فرق نہیں پہچان پایا۔"

بادشاہ نے کچھ دیر دونوں چیزوں کو پرکھا پھر ہار مانتے ہوئے دربار میں موجود تمام لوگوں کو ایک کے بعد ایک جانچنے کو کہا۔

لیکن کوئی بھی ان دونوں میں فرق نہیں بتا پایا۔ سب کو گمان ہوا کہ اب شکست ہی مقدر ہے۔ بات انعام کی نہیں بلکہ بادشاہ کی عزت کی تھی۔ کیونکہ دولت تو بادشاہ کے پاس بہت تھی، زرا سا انعام دینے میں کچھ نہیں جاتا۔ لیکن بادشاہ کی ذہانت اور عزت پر آنچ آجاتی اور یہ بادشاہ کو منظور نہیں تھا کہ کوئی اجنبی اس کی ریاست میں آئے اور اس کے سامنے پوری ریاست کو سبکی ہو۔

سب اسی کشمکش میں تھے کہ عوام کی بھیڑ م،یں ہلچل ہوئی اور ایک نابینا شخص ہاتھ میں لاٹھی لئے اٹھا اور کہنے لگا مجھے بادشاہ کے پاس لے چلو، میں نے سب کچھ سنا ہے اور میں ایک بار ان چیزوں کا جانچنا چاہتا ہوں۔

دربان بابا کا ہاتھ پکڑ کر بادشاہ کے حضور لے گیا۔ نابینا نے بادشاہ سے اجازت طلب کی اور کہا کہ بادشاہ سلامت پورے دربار کو آپ نے آزما لیا، ایک موع مجھے بھی دیں۔ اگر کامیاب ہوا تو آپ کی عزت بچ جائے گی، ناکام ہوا تو ویسے بھی آپ ہارے ہوئے ہی ہیں۔

بادشاہ نے ایک لمحے کو سوچا کہ اس میں کوئی حرج نہیں اور نابینا کو اجازت دے دی۔

 نابینا بزرگ نے دونوں چیزوں کو ایک کے بعد ایک ہاتھ میں لیا، اور فوراً بتا دیا کہ ان میں کونسا ہیرا اور اور کونسا شیشہ۔

اس اجنبی نے نابینا بزرگ کی بات صحیح ہونے صہیحصکی تصدیق کی اور کہا کہ یہ ہیرا بادشاہ کو ہوا،

 لیکن  پورا دربار حیران تھا کہ دربار کے بینا اور دانا اشخاص جس بات کا جواب نہ دے پائے، اس کا جواب ایک نابینا نے کیسے دے دیا۔

یہی سوال بادشاہ نے نابینا شخص سے پوچھا تو اس نے کہا کہ " حضور والا! یہ دونوں چیزیں دھوپ میں رکھی ہوئی تھیں، میں دونوں کو چھو کر دیکھا، جو اصلی ہیرا تھا اس پر دھوپ کی گرمی کا کوئی اثر نہیں ہوا ، لیکن جو شیشہ تھا وہ دھوپ سے گرم ہوچکا تھا۔"

اسی وجہ سے ان دونوں میں فرق بتا پایا۔

کہانی کا سبق:

زندگی میں آنے والے مشکل حالات بھی دھوپ کی طرح ہے، جو مشکل حالات یں گرم ہوجائے وہ شیشے کی طرح بیکار ہے، لیکن جو ٹھنڈا رہے وہ ہی اصل ہیرا ہے۔