ایران نے پیٹرو کیمیکل کی برآمدات پر پابندی لگا دی
ایران نے توانائی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں پیداواری اثرات کے باعث پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی برآمدات پر فوری پابندی عائد کردی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد ملکی ضروریات کو پورا کرنا اور خام مال کی قلت سے بچانا ہے۔
ایران کے اخبار ’دنیائے اقتصاد‘ کے مطابق نیشنل پیٹرو کیمیکل کمپنی کے سینیئر عہدیدار نے تمام پیٹرو کیمیکل کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تاحکمِ ثانی اپنی برآمدات معطل کر دیں۔ اخبار کے مطابق اس پابندی کا مقصد حالیہ حملوں سے ہونے والے نقصانات کے بعد مقامی مارکیٹوں کو مستحکم کرنا اور صنعتوں کو خام مال کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا ہے۔
عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے باوجود مقامی سطح پر پیٹرو کیمیکل اور متعلقہ مصنوعات کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر برقرار رکھی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقامی صنعتوں اور صارفین کو ریلیف کے لیے یہ اقدامات جاری رہیں گے۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں اسرائیل نے عسلویہ اور ماہ شہر کے اہم پیٹرو کیمیکل پیداواری مراکز کو نشانہ بنایا تھا، جس سے پیٹرو کیمیکل پلانٹس کو خام مال فراہم کرنے والی یوٹیلٹی کمپنیاں متاثر ہوئیں اور پیداواری عمل میں شدید خلل پڑا۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’فارس‘ کے مطابق، ایران سالانہ تقریباً 2 کروڑ 90 لاکھ ٹن پیٹرو کیمیکل مصنوعات برآمد کرتا ہے، جن کی مالیت 13 ارب ڈالر کے لگ بھگ بنتی ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے اس ہفتے ایران کی بندرگاہوں پر تجارتی جہازوں کی آمد و رفت روکنے کے لیے ناکہ بندی شروع کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایران کی برآمدآت سے حاصل ہونے والی آمدن میں کمی اور تہران پر معاشی دباؤ ڈالنا ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب امریکی اور ایرانی سفارت کار امن مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کے دوران ایران کی بندرگاہوں میں داخل یا خارج ہونے والے کسی بھی جہاز کو اجازت نہیں دی گئی، تاہم ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایرانی سپر ٹینکر اس پابندی کے باوجود امام خمینی پورٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔















