اسرائیل کا جنگ بندی کے باوجود لبنان کے تمام علاقوں پر قبضہ برقرار رکھنے کا اعلان
اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود وہ جنوبی لبنان میں قبضہ کیے گئے تمام علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیوں کے دوران حاصل کیے گئے تمام علاقوں پر بدستور موجود رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے لبنان کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک ایک ”سیکیورٹی زون“ قائم کر لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ بندی معاہدے میں اسرائیل کو جنوبی لبنان سے انخلا کا پابند نہیں بنایا گیا، جہاں اسرائیلی فوج نے دریائے لیتانی کے جنوب میں رہائشیوں کو نقل مکانی کا حکم دینے کے بعد متعدد دیہات اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا۔ یہ علاقہ لبنان کے تقریباً 8 فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان کے دیہات میں گھروں کو مسمار کرتی رہے گی، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں حزب اللہ استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج ان تمام علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھے گی جنہیں کلیئر اور فتح کیا جا چکا ہے۔
اسرائیل کاٹز نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد حزب اللہ کو دریائے لیتانی کے جنوب میں غیر مسلح کیا جانا چاہیے، چاہے یہ عمل سیاسی طریقے سے ہو یا پھر دوبارہ فوجی کارروائی کے ذریعے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں شدید کشیدگی اور فوجی جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔
لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود خلاف ورزیاں جاری
دوسری طرف لبنان کی فوج نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے 10 روزہ جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد ہی اس کی خلاف ورزی کی، جس کے باعث جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔
لبنانی فوج کا کہنا ہے کہ جمعہ کی رات مقامی وقت کے مطابق آدھی رات سے جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد اسرائیل کی جانب سے متعدد خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
فوج نے اسرائیل پر ’کئی جارحانہ اقدامات‘ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان کے مختلف دیہات پر وقفے وقفے سے گولہ باری کی گئی، جس سے وہاں کے حالات متاثر ہوئے۔
لبنانی فوج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ صورت حال کے پیش نظر جنوبی علاقوں کے دیہات اور قصبوں میں واپسی مؤخر کر دیں۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے اسرائیلی فوج سے رابطہ کیا ہے، تاہم فوری طور پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔













