ایران امریکا جنگ 60 دنوں میں ختم ہونے کا امکان
سات ہفتے قبل امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد سے بند رہنے والی اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے ہفتے کے روز تیل بردار جہازوں کے پہلے بڑے قافلے نے گزرنا شروع کر دیا تھا۔ تاہم پاسدارانِ انقلاب نے امریکا پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے سمندری گزرگاہ کر دوبارہ بند کردیا ہے۔
میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کے روز مائع پیٹرولیم گیس اور کیمیائی مواد لے جانے والے چار بڑے جہازوں کو ایرانی پانیوں سے ہوتے ہوئے گزرتے ہوئے رہکارڈ کیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ خلیج سے مزید ٹینکرز بھی ان کے پیچھے آ رہے ہیں۔
تاہم، اس کے کچھ ہی دیر بعد پاسدارانِ انقلاب نے دوبارہ آبنائے ہرمز کی بندش کا اعلان کردیا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مستقل امن کے لیے سفارتی کوششیں عروج پر ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے حوالے سے کچھ ”اچھی خبروں“ کا اشارہ دیا، تاہم انہوں نے اس کی تفصیل بتانے سے گریز کیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ معاملات بہت بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ہفتے کے آخر میں مذاکرات جاری رہنے کی توقع ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہوں، کیونکہ یہ معاملہ ہر چیز پر مقدم ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بدھ تک کوئی طویل مدتی معاہدہ طے نہ پایا تو وہ جنگ بندی ختم کر سکتے ہیں اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھول دیا ہے، مگر ساتھ ہی یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ گزرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنی ہوگی۔
ایران کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل جیسے دشمن ممالک سے وابستہ فوجی یا تجارتی جہازوں کو اب بھی گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں دو ٹوک کہا کہ اگر امریکا کی جانب سے ایران کی ناکہ بندی جاری رہی تو آبنائے ہرمز کو بھی زیادہ دیر تک کھلا نہیں رکھا جائے گا۔
پاکستان اس وقت ان مذاکرات میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں تین روزہ مذاکرات مکمل کر کے واپس پہنچ چکے ہیں، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف بھی قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کے دورے مکمل کر چکے ہیں۔
بگرطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی اس بیٹھک سے ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت سامنے آ سکتی ہے، جس کے بعد ساٹھ دنوں کے اندر مکمل امن معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا رواں ہفتے کے آخر میں دونوں ممالک کے درمیان کوئی براہِ راست اعلیٰ سطح کی ملاقات ہو سکے گی یا نہیں۔
ایٹمی پروگرام اب بھی مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکا ایران سے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ نکال لے جائے گا، جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دو ٹوک کہا ہے کہ یہ مواد کسی صورت ملک سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔
ایران میں جمعہ کے اجتماعات کے دوران سینیئر علماء نے بھی سخت لہجہ اختیار کیا ہے، علامہ احمد خاتمی کا کہنا تھا کہ ہماری قوم ذلت کی بنیاد پر مذاکرات نہیں کرتی۔
ان اختلافات کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دس فیصد کمی دیکھی گئی ہے اور سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی یہ کوششیں خطے کو ایک بڑی جنگ سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔














