لبنان-اسرائیل مذاکرات ایران تنازع سے الگ ہیں: لبنانی صدر
لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے اسرائیل کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو ایران سے متعلق تنازع کے حل سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
امریکی خبر رساں ادارہ سی این این کے مطابق لبنانی صدر کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے سفیروں کے درمیان گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں ملاقات ہوئی، جو چار دہائیوں سے زائد عرصے میں دونوں حکومتوں کے درمیان پہلی باضابطہ دوطرفہ ملاقات تھی۔
صدرعون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ آئندہ مذاکرات کسی بھی دیگر مذاکرات سے الگ ہوں گے کیونکہ لبنان کے سامنے دو راستے ہیں یا تو جنگ کا تسلسل، جس کے انسانی، سماجی، معاشی اور خودمختاری پر سنگین اثرات ہوں گے، یا پھر مذاکرات کے ذریعے جنگ کا خاتمہ اور پائیدار استحکام کا حصول۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم ایران نے دونوں تنازعات کو آپس میں جوڑتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حزب اللہ پر حملے بند کرے، جسے امریکا کے ساتھ جنگ بندی کی شرط قرار دیا گیا ہے۔
لبنانی صدر کے مطابق مذاکرات کا مقصد مخالفانہ کارروائیوں کا خاتمہ، جنوبی علاقوں سے اسرائیلی قبضے کا اختتام اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں تک لبنانی فوج کی تعیناتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالا اور مذاکرات کے آغاز کی راہ ہموار کی۔
صدر عون کا کہنا تھا کہ جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات شروع کرنے کے لیے رابطے جاری رہیں گے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کا سلسلہ اسی ہفتے جاری رہ سکتا ہے، تاہم اس کی حتمی تاریخ تاحال طے نہیں ہوئی۔ ابتدائی مرحلہ سفیروں کی سطح پر ہوگا جب کہ دوسرے مرحلے میں سفیر سائمن کرم کی قیادت میں ایک وفد مذاکرات کرے گا۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم لبنان کو بچانے میں کامیاب ہوں گے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے گزشتہ ہفتے پاکستانی ثالثوں کو بتایا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان جامع جنگ بندی طے پاتی ہے تو اس میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی پوزیشنز سے دستبردار نہیں ہوگی، جب کہ 10 روزہ جنگ بندی اس ہفتے کے اختتام پر ختم ہونے والی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی افواج نے گزشتہ ہفتے جنگ بندی کے بعد سے جنوبی لبنان کے 39 دیہات میں مختلف درجے کی تباہی کی کارروائیاں کی ہیں جب کہ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہی ہے۔
لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کے قریبی معاون اور اعلیٰ سیاسی رہنما علی حسن خلیل نے بتایا کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے کیے گئے طاقت ور دھماکوں کے نتیجے میں جنوبی علاقوں میں شہریوں کے گھروں کو تباہ کیا گیا ہے، جو ان کے بقول ایک واضح جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔















