سوئٹزرلینڈ میں آج امریکا-ایران مذاکرات کا آغاز، امریکی نائب صدر کا دورہ منسوخ
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آغاز آج سوئٹزرلینڈ کے شہر برجن اسٹاک میں ہو گا۔
سوئس وزارت خارجہ کے مطابق امریکا اور ایران کے مندوبین معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کریں گے۔
مذاکراتی نشست میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان اور قطر کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جگہ پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد نمائندگی کرے گا۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا متوقع دورۂ سوئٹزرلینڈ منسوخ کر دیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران کے ساتھ متوقع تکنیکی مذاکرات کے انتظامات اور شیڈول کو حتمی شکل نہیں دی گئی، تاہم امریکی وفد پہلی دستیاب فرصت پر روانگی کے لیے تیار ہے۔
ترجمان نے وائٹ ہاؤس پریس پول کو جاری بیان میں کہا کہ جیسا کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا تھا، آئندہ تکنیکی مذاکرات کے منصوبے ابھی تک مکمل طور پر طے نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کی لاجسٹکس کبھی بھی آسان یا قابلِ پیش گوئی نہیں رہیں، اسی لیے اس وقت نائب صدر آج رات روانہ نہیں ہو رہے۔ ترجمان کے مطابق جیسے ہی اگلے مرحلے کے حوالے سے کوئی واضح پیش رفت ہوگی، اس سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا جلد از جلد تکنیکی مذاکرات کے آغاز کا منتظر ہے۔
اس ہفتے ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ممالک ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق 60 روزہ تکنیکی مذاکرات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اس سے قبل جے ڈی وینس نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ منصوبے کے مطابق یہ مذاکرات رواں ہفتے کے اختتام پر شروع ہونے تھے اور وہ مذاکرات کے آغاز کے موقع پر سوئٹزرلینڈ جانے کا ارادہ رکھتے تھے، تاہم حالات تبدیل بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ ایران ایسا ملک نہیں جہاں سے معاملات کو جلد اور آسانی سے حتمی شکل دی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مکمل طور پر اس بات پر منحصر ہے کہ ایرانی نمائندے کب وہاں پہنچ سکتے ہیں۔ ان کے بقول اس حوالے سے ابھی بات چیت جاری ہے، تاہم ان کا خیال ہے کہ مذاکرات کا آغاز اسی ہفتے کے اختتام پر ہو جائے گا۔
سوئس حکومت نے میٹنگ سے متعلق مزید تفصیل نہیں بتائیں۔ میٹنگ میں دیگر ممالک کی شرکت سے متعلق بات بھی نئے اعلامیہ سے نکال دی گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی اور ایرانی صدور کے بعد وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پربطور ثالث دستخط کیے تھے۔
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے میں اسلام آبادمفاہمتی یادداشت پر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں۔













