’سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرے‘: ٹرمپ کی شرط پر نیتن یاہو کا خیرمقدم

سعودی عرب کی اسرائیل سے مفاہمت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، اسرائیلی وزیرِاعظم کا بیان
شائع 23 جولائ 2026 07:26pm

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو کر اسرائیل سے تعلقات معمول پر لاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے تاریخی پیش رفت ہوگی۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ سول نیوکلیئر معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کیا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو ابراہم معاہدوں کے لیے غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ریاض اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے دائرے کو وسیع کرنے کی سمت ایک تاریخی قدم ہوگا۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور تہران کے حمایت یافتہ گروہوں کو پہنچنے والے نقصان نے خطے میں امن کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی واضح کر چکے ہیں کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگی۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والا سول نیوکلیئر معاہدہ اسی صورت نافذ ہوگا جب ریاض ابراہم معاہدوں میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے گا۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ معاہدہ صرف پرامن مقاصد کے لیے سول نیوکلیئر پروگرام سے متعلق ہے اور اس کے تحت یورینیم کی افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

امریکی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سول نیوکلیئر تعاون کا معاہدہ 30 برس کے لیے ہوگا، جس کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب میں جوہری بجلی گھروں کی تعمیر اور مالی معاونت فراہم کریں گی۔

معاہدے کے تحت نگرانی کا ایک خصوصی نظام بھی قائم کیا گیا ہے جو براہ راست امریکی حکومت کے تحت کام کرے گا، نہ کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ذریعے۔

دوسری جانب سعودی عرب نے ٹرمپ کے تازہ بیان پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، تاہم ریاض پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی قابل عمل ضمانت کے بغیر وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔

ابراہم معاہدوں میں اس وقت متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان، مراکش اور قازقستان شامل ہیں، جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔