50 سال کی عمر میں دماغ میں کون سی خاموش تبدیلی شروع ہوتی ہے؟

عمر بڑھنے کے ساتھ خون اور دماغ کے درمیان موجود حفاظتی نظام میں بھی تبدیلی آسکتی ہے۔
شائع 12 اگست 2026 11:15am

سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ تقریباً 50 سال کی عمر کے بعد ہمارے دماغ میں ایسی تبدیلیاں شروع ہوسکتی ہیں جو باہر سے نظر نہیں آتیں، لیکن اندر سے دماغ کے کام کرنے کے طریقے کو متاثر کرسکتی ہیں۔

ماہرین نے دماغ کے ایک اہم حصے ہپوکیمپس کا جائزہ لیا۔ ہپوکیمپس وہ حصہ ہے جو ہماری یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آسان الفاظ میں کہیں تو جو چیزیں ہم یاد رکھتے ہیں اور نئی چیزیں سیکھتے ہیں، ان میں دماغ کا یہ حصہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔

یہ تحقیق برطانیہ کے قومی ادارۂ صحت (این آئی ایچ) کی مالی معاونت سے ہونے والی ایک سائنسی تحقیق کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔ تحقیق میں 20 سے 95 سال کی عمر کے 40 ایسے افراد کے دماغی ٹشوز کا جائزہ لیا گیا جو اپنی زندگی میں دماغی بیماریوں کا شکار نہیں تھے۔ سائنس دانوں نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کے اندر کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔

تحقیق میں خاص طور پر مائیکروگلیا نامی خلیوں کا جائزہ لیا گیا۔ یہ دماغ کے محافظ خلیے سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا کام دماغ کو نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا اور دماغ کے اندر پیدا ہونے والی سوزش کو قابو میں رکھنا ہے۔

ماہرین کے مطابق تقریباً 50 سال کی عمر کے بعد ان حفاظتی خلیوں میں کمی آنا شروع ہوسکتی ہے اور یہ تبدیلی 75 سال کی عمر تک بتدریج جاری رہ سکتی ہے۔ اسی دوران ایسے خلیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے جن میں سوزش پیدا کرنے والی خصوصیات زیادہ ہوتی ہیں۔

دماغ میں مسلسل سوزش اچھی علامت نہیں سمجھی جاتی، کیونکہ سائنس دان پہلے ہی عمر بڑھنے اور دماغی بیماریوں کے درمیان تعلق پر تحقیق کررہے ہیں۔ تاہم اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ 50 سال کی عمر کے بعد ہر شخص کو الزائمر یا ڈیمینشیا ضرور ہوگا۔

تحقیق میں ایک اور اہم بات بھی سامنے آئی۔ عمر بڑھنے کے ساتھ خون اور دماغ کے درمیان موجود حفاظتی نظام میں بھی تبدیلی آسکتی ہے۔ یہ نظام ایک حفاظتی دیوار کی طرح کام کرتا ہے اور خون میں موجود نقصان دہ چیزوں کو دماغ تک پہنچنے سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔

اگر یہ حفاظتی نظام کمزور ہوجائے تو دماغ کے ماحول پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس تبدیلی کو سمجھنا مستقبل میں دماغی بیماریوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

تحقیق کے پہلے مصنف ڈاکٹر ناتھن زیمکی نے کہا، ”جین کا اظہار یہ بتاتا ہے کہ خلیہ اس وقت کیا کررہا ہے، جبکہ ایپی جینیٹک نشانات خلیے کی ابتدا کے بارے میں معلومات محفوظ رکھتے ہیں۔“

سادہ الفاظ میں ان کی بات کا مطلب یہ ہے کہ سائنس دانوں نے صرف یہ نہیں دیکھا کہ دماغ کے خلیے کتنے ہیں، بلکہ یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ وہ کس طرح کام کررہے ہیں اور عمر کے ساتھ ان کے کام میں کیا تبدیلی آ رہی ہے۔

نیویارک جینوم سینٹر کے پروفیسر ڈاکٹر پِنگ رین نے کہا، ”ساخت میں بتدریج پیدا ہونے والی خرابیاں جینز کی تنظیم اور خلیوں کی شناخت میں ہونے والی تبدیلیوں سے گہری طور پر منسلک تھیں۔“

ان کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کے اندر موجود خلیوں اور ان کے کام کرنے کے انداز میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ اس تحقیق نے سائنس دانوں کو ان تبدیلیوں کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع دیا ہے۔

قومی ادارۂ صحت کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ایجنگ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رچرڈ ہوڈز نے بھی اس تحقیق کو اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق مائیکروگلیا خلیوں میں ہونے والی یہ خاموش تبدیلی عمر رسیدہ دماغ کو سمجھنے کے لیے ایک اہم سراغ ثابت ہوسکتی ہے۔

ماہرین اب یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ دماغ کے حفاظتی خلیے عمر بڑھنے کے ساتھ کیوں کم ہوتے ہیں اور ان کی جگہ دوسرے خلیے کیوں آنے لگتے ہیں۔ وہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ آیا اس تبدیلی کا الزائمر اور ڈیمینشیا جیسی بیماریوں سے براہ راست کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ 50 سال کی عمر کے بعد دماغ خراب ہونا شروع ہوجاتا ہے یا ہر شخص کو یادداشت کی بیماری لاحق ہوگی۔ تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس سلسلے میں مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔

البتہ سائنس دانوں کے لیے یہ دریافت اہم ضرور ہے، کیونکہ اس سے انہیں یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کے اندر کیا تبدیلیاں آتی ہیں اور مستقبل میں دماغ کو عمر سے متعلق بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

مختصر طور پر، 50 سال کی عمر کے آس پاس دماغ میں کچھ تبدیلیاں خاموشی سے شروع ہوسکتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں خاص طور پر دماغ کے حفاظتی خلیوں اور سوزش سے متعلق ہیں۔ سائنس دان اب یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان تبدیلیوں کو کس طرح قابو میں رکھا جائے اور کیا ایسا کرکے مستقبل میں دماغی بیماریوں کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔