ایران کا افزودہ یورینیم امریکا لایا جائے گا، اس پر مل کر کام کریں گے: ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو امریکا منتقل کیا جائے گا، جس کے لیے وہاں کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
جمعے کو برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ امریکا منظم مرحلے لیکن آہستہ رفتار سے آگے بڑھے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ مل کر ان کے ملک میں پورے احتیاط اور آرام سے کھدائی کرکے بڑی مشینری کے ذریعے جوہری مواد نکالیں گے اور پھر اسے امریکا لے آئیں گے جب کہ انہوں نے اس عمل کو نیوکلیئر ڈسٹ سے بھی تعبیر کیا اور کہا کہ یہ وہ باقیات ہیں جو گزشتہ برس جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی اور اسرائی حملوں کے بعد بچی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم اور پیچیدہ مسئلہ رہا ہے، جنگ کی ایک بڑی وجہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا۔
خیال رہے کہ ایران کے پاس اس وقت 440.9 کلوگرام یورینیئم موجود ہے، جو 60 فیصد تک افزودہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سطح 90 فیصد تک مزید افزودہ ہونے کی صورت میں ہتھیار بنانے کے قابل ہوسکتی ہے تاہم ایران طویل عرصے سے یہ مؤقف رکھتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن اور شہری مقاصد کے لیے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاہدہ حتمی ہونے تک ایران کے خلاف امریکی بحری پابندیاں برقرار رہیں گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق مزید مذاکرات کی ضرورت ہے جو ممکنہ طور پر ہفتے کے آخر میں ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ طے پانے کی صورت میں وہ اسلام آباد کا دورہ بھی کر سکتے ہیں تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ امریکا ایران سے یورینیم کے بدلے 20 ارب ڈالر کی ادائیگی پر غور کر رہا ہے اور واضح کیا کہ کسی قسم کی مالی لین دین نہیں ہو رہی۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کو ہٹانے پر بھی کام کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں اور ایرانی قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ کسی بھی دشمن ملک کے جہاز کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔
پاکستان نے اس تمام عرصے میں خطے میں استحکام اور جنگ بندی کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں اور بالاخر امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کو سیز فائر پر راضی کیا، جس کے بعد دونوں ملکوں نے 8 اپریل کو دو ہفتے کے سیز فائر کا اعلان کیا۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس معاہدے میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا، جس کے بعد اس سیز فائر کو جنگ کے مستقل خاتمے میں تبدیل کے لیے فریقین کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا۔
اگرچہ اس جنگ بندی کے خاتمے میں اب چند روز باقی ہیں لیکن پاکستان اس کی مدت میں توسیع کے لیے دوبارہ متحرک ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں، جس کے بعد ایران نے جمعہ کو عارضی طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔













