تہران ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں بحال، فضائی آپریشنز دوبارہ شروع

ابتدائی مرحلے میں استنبول اور مسقط کے لیے فضائی آپریشن ہفتے سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
شائع 24 اپريل 2026 07:24pm

ایران نے جنگ بندی کے بعد تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی مسافر پروازوں کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ ابتدائی مرحلے میں استنبول اور مسقط کے لیے پروازوں کی بحالی کا اعلان کیا گیا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی مسافر پروازیں ہفتے سے دوبارہ شروع ہو رہی ہیں، جس کے ساتھ 50 روز سے زائد عرصے پر محیط تعطل ختم ہو جائے گا۔

ایئرپورٹ حکام نے بتایا کہ 25 اپریل سے غیر ملکی مسافر پروازوں کی بحالی شروع ہوگی، جن میں ابتدائی طور پر ترکیہ کا شہر استنبول اور عمان کا دارالحکومت مسقط شامل ہیں۔

ایئرپورٹ حکام کے مطابق فضائی حدود کی بندش کے دوران ایئرپورٹ پر کارگو آپریشنز جاری رہے تاہم مسافر پروازیں معطل تھیں۔ اس دوران غیر ملکی ایئرلائنز نے بھی اپنے طیارے ایئرپورٹ سے منتقل کر دیے تھے۔

امام خمینی ایئرپورٹ سٹی کے سی ای او رامین کاشف آذر نے ایرانی خبر رساں ادارے کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ بین الاقوامی پروازوں کی بحالی ہفتے سے شروع کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر استنبول اور مسقط کے لیے ریٹرن پروازوں کی اجازت دی گئی ہے جب کہ دیگر ایئرلائنز اور روٹس کے اجازت نامے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ کے تمام بنیادی ڈھانچے اور نیویگیشن سسٹمز مکمل طور پر فعال ہیں اور پروازوں کی بحالی میں کوئی تکنیکی رکاوٹ موجود نہیں۔

دوسری جانب ایران کی قومی فضائی کمپنی ایران ایئر نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ہفتے سے اندرون ملک پروازیں بحال کرے گی، جس کا پہلا روٹ تہران سے مشہد ہو گا۔

رپورٹ کے مطابق ہفتے اور اتوار کو تہران کے مہرباد ایئرپورٹ سے دو پروازیں چلائی جائیں گی جب کہ دیگر شہروں کے لیے بھی پروازوں کی مرحلہ وار بحالی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

فضائی آپریشنز کی بحالی اس وقت عمل میں آرہی ہے جب 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد خطے میں فضائی ٹریفک شدید متاثر ہوئی تھی۔ 8 اپریل کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی ثالثی میں ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کے تحت امریکا نے ایران کی 10 نکاتی تجویز کو قبول کیا۔

11 اپریل کو پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی اعلیٰ مذاکرات کاروں کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے تاہم کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہ ہو سکا۔ ایرانی حکام نے اس کا ذمہ دار امریکی فریق کے بڑھتے ہوئے مطالبات اور بدلتی ہوئی پوزیشنز کو قرار دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی برقرار رہے گی، جب تک ایران اپنی جانب سے ایک “متفقہ تجویز” پیش نہیں کرتا۔