تہران کسی کاغذی معاہدے کو قبول نہیں کرے گا: ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر کی امریکا کو وارننگ
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر اور معاون محمد مخبر نے خبردار کیا ہے کہ تہران کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہو، اور جب تک امریکا اپنے وعدوں پر مکمل اور عملی طور پر عمل درآمد یقینی نہیں بناتا، کسی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اپنے حالیہ بیان میں محمد مخبر نے کہا کہ اگر امریکا نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کی تو اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران اب محض بیانات یا تحریری یقین دہانیوں پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ عملی اقدامات کو ہی بنیادی شرط سمجھتا ہے۔
محمد مخبر نے مزید کہا کہ امریکی پالیسی ساز معاشی فائدے اور لاگت کے حساب کی زبان بہتر سمجھتے ہیں، اس لیے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ معاہدوں کو عملی شکل دی جائے نہ کہ انہیں صرف کاغذ تک محدود رکھا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی بھی معاہدہ صرف کاغذوں کی حد تک رہ گیا تو اس کے اثرات نہ صرف سیاسی ہوں گے بلکہ مشرق وسطیٰ میں توانائی کے بہاؤ پر بھی سنگین اثر پڑ سکتا ہے۔
ایرانی مشیر کا کہنا تھا کہ تہران کے مذاکرات کار کسی بھی ایسے نتیجے پر مطمئن نہیں ہوں گے جس میں وعدوں کا مکمل نفاذ اور ایرانی قوم کے حقوق کی حقیقی تکمیل شامل نہ ہو۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے عارضی امن معاہدے کے تحت آج سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات ہوں گے۔
اس انتہائی اہم اور بڑے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے ان اہم مذاکرات کا حصہ بنیں گے۔ ان کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح کا سرکاری وفد اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی مذاکرات میں شامل ہوں گے۔
امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس بھی ایران سے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں، جبکہ ایرانی وفد باقر قالیباف کی سربراہی میں سوئٹزر لینڈ پہنچ گیا ہے۔













