'ایران سے دو شرائط پر مذاکرات آج سے شروع ہوں گے': صدر ٹرمپ کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ہونے والی ممکنہ عسکری کارروائی کو فوری طور پر منسوخ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا آغاز آج دوپہر سے ہو رہا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ اور بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ تہران کے ساتھ بات چیت ایک خاص مذاکراتی فریم ورک کے تحت جاری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور خود ایران کی درخواست پر حملے کو روکا گیا ہے کیونکہ اسرائیل نے بھی اس وقت حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنی ترجیح کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”میں لوگوں کو مارنا نہیں چاہتا، ہماری ترجیح ایک جامع معاہدہ کرنا ہے کیونکہ جنگ میں بہت سے لوگ مارے جاتے ہیں اور ہم ایسا نہیں چاہتے“۔
امریکی صدر کے مطابق حملے کی منسوخی فوری معاہدے سے مشروط ہوگی جس میں دو بنیادی شرائط شامل ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ کو فوری، مکمل اور مستقل طور پر کھولا جائے اور دوسری شرط کے طور پر ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرے۔
ٹرمپ نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگرچہ وہ سفارت کاری کو موقع دے رہے ہیں لیکن امریکا کے پاس ایران کے خلاف کارروائی کا اختیار موجود ہے اور اس وقت امریکا کی خطے میں عسکری تیاری ایسی ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد کبھی نہیں دیکھی گئی۔
دوسری طرف بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’ایگزیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی فیصلے میں خطے کے ممالک کا اہم کردار رہا، جہاں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے تشویش کا اظہار کیا تھا اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان، قطر، یو اے ای اور ترکیہ نے بھی کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی دباؤ بڑھایا۔
سفارتی محاذ پر پیش رفت کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، عمانی حکام، اور سعودی و ترک وزرائے خارجہ سے رابطے کیے تاکہ صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، یورپ میں امریکا کے ٹاپ جنرل الیکسز گرینکیوچ نے پینٹاگون کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ ایرانی میزائلوں سے اسرائیل کو مکمل محفوظ رکھنا ناممکن ہے اور خطے میں امریکی بحری فورس کی تعداد اتنی نہیں کہ وہ اسرائیل کا مکمل دفاع کر سکے۔














