آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی، نیتن یاہو کا لبنان پر حملے روکنے کا حکم
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے جبکہ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کو روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر اس اہم بحری گزرگاہ میں تیل اور تجارتی جہازوں کی آمد و رفت جاری ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی خلاف ورزی کے جواب میں ہم آبنائے ہرمز کو بند کر رہے ہیں۔
صورتحال کے بارے میں زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اگرچہ ایران نے بندش کا اعلان کیا ہے، لیکن سمندری راستوں سے جہازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر رکی نہیں ہے۔
اطلاعات کے مطابق بعض بحری جہاز عمان کی سمندری حدود سے گزر رہے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں ہوئی بلکہ جزوی طور پر متاثر ہوئی ہے۔
اُدھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت کھلی ہے اور وہاں بحری ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیوں کو عارضی طور پر روکنے کا حکم دیا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق یہ فیصلہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
خطے میں جاری کشیدگی کے دوران گزشتہ روز اسرائیلی حملوں میں 32 افراد کے شہید ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔













