قاہرہ میں آر- 4 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا خیر مقدم
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں آر- 4 ممالک (پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔ شرکا نے ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کا خیر مقدم کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کشیدگی میں کمی کی جانب اہم قدم ہے، معاہدے پر عمل درآمد اور مذاکرات کے اگلے مرحلے کی کامیابی پر توجہ مرکوز رکھی جائے جب کہ شرکا نے خطے میں امن و سلامتی، استحکام کے فروغ کے لیے باہمی مشاورت اور رابطہ کاری جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق اتوار کو پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کا چوتھا مشاورتی اجلاس قاہرہ میں منعقد ہوا، اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے صدر عبدالفتاح السیسی کی خطے کے مستقبل سے متعلق وژن شیئر کرنے پر اظہار تشکر کیا۔ صدر السیسی کا وژن خطے میں استحکام کے لیے آر فور ممالک کی کوششوں کی رہنمائی کرے گا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس میں علاقائی اور عالمی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ نے مشرق وسطیٰ اور خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشاورت و رابطوں کے تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔
وزرائے خارجہ نے 18 جون کو امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیر مقدم کیا جب کہ آر فور ممالک نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو کشیدگی میں کمی اور تنازع کے خاتمے کی جانب ایک تعمیری قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنازع نے علاقائی سلامتی، توانائی کی منڈیوں، عالمی بحری راستوں، سپلائی چینز اور بین الاقوامی تجارت کو خطرات لاحق کیے، علاقائی اور عالمی فریقین کی ان کوششوں کو سراہا گیا جنہوں نے مفاہمت کے حصول میں کردار ادا کیا۔
وزرائے خارجہ نے فریقین کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر مکمل عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ آر فور وزرائے خارجہ نے تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت تک پہنچنے میں پاکستان کے کلیدی کردار کو سراہا جب کہ قطر کی جانب سے مذاکرات کو کامیاب نتیجے تک پہنچانے کے لیے فراہم کی گئی معاونت کو بھی سراہا گیا۔
وزرائے خارجہ نے اس اہم معاملے پر پاکستان کے ساتھ مسلسل اور قریبی رابطہ کاری کو بھی سراہا۔ چاروں ممالک نے مذاکرات کے اگلے مرحلے کی جلد اور کامیاب تکمیل پر زور دیا۔
اعلامیے میں دیرپا، قابل تصدیق اور باہمی طور پر قابل قبول حل کے حصول کی اہمیت اجاگر کی گئی، آئندہ کوششوں میں خطے کے ممالک کے تحفظات کو مدنظر رکھنا ہوگا، خلیجی عرب ریاستوں اور شام و لبنان سمیت لیونٹ خطے کی سلامتی و استحکام کے تحفظ پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اجتماعی سلامتی کے فروغ سے طویل المدتی علاقائی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ آر فور ممالک نے مشرق وسطیٰ میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے فلسطینی کاز کی مرکزی حیثیت کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ فلسطین کا مسئلہ خطے میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے قیام کی بنیاد ہے جب کہ غزہ، مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کی انسانی اور سیاسی صورت حال پر خصوصی توجہ دی گئی۔
وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کا اعادہ کیا جب کہ اجلاس میں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔
اجلاس میں آزاد فلسطینی ریاست 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر قائم کرنے پر زور دیا گیا جب کہ آر فور ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے عزم کا اظہار کیا۔















